Welcome to 'Students for Academic Excellence', Ekhatha

You are welcome to the initiative. We would request to joins us as members and start posting your ideas, suggestions and anything which is informative and related to education.
Please come forward to extend you help and guidance to those who badly need them.
Also, we will request our student community to share with us their aims, aspirations, needs and problems, so that we can help them guide to their destinations.

S4Xellence Team.

Sunday, 3 August 2014

۲۰۱۴ انعامی پروگرام کی تفصیلی رپورٹ

پروگرام ۲۰۱۴ کی تفصیلی  رپورٹ







اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ کرم ہے کہ اسٹوڈنٹس فار اکیڈمک اکسیلینس کے زیرِ اہتمام طلبہ مدارس و اسکول، یکہتہ و مضافات کی طرف سے منعقد انعامی پروگرام بشمول گروپ ڈسکشن نہایت کامیاب رہتے ہوئے   مثبت  پیغام دیکر اختتام پذیر ہوا۔ سارے ہی پروگاموں میں خاص طور سے مباحثہ اور گروپ ڈسکشن میں یکہتہ کے علماء، دانشوران، طلبہ اور عوام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔  پروگرام کے منتظمین کی  دو مہینوں کی مسلسل اور ان تحک کوششیں آخر کار بار آور ہوئیں اور سارے ہی مقابلے بحسن و خوبی انجام پذیر ہوئے۔ پروگرام کی شروعات مسرور شارق کی تلاوت کریم سے ہوئی، اور  بارگاہِ رسالت میں عامر نذیر نے نذرانۂ عقیدت پیش کیا۔ بعد ازاں مولانا منور سلطان ندوی نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے  پروگرام کے اغراض مقاصد پر روشنی ڈالی اور مختصرا  S4X  کا تعارف کرایا۔ اس کے بعد درج ذیل پروگرام  ترتیب کے ساتھ ہوئے۔
(۱) مسابقۂ حفظِ حدیث میں   جو کہ بہت ہی مشکل مقابلہ تھا  صرف ۵ ہی طلبہ حاضر ہوئے لیکن  چونکہ یکہتہ میں یہ اس نوعیت کا پہلا مقابلہ تھا   اس کی خوب سراہنا ہوئی۔ پروگرام کی صدارت مولانا احمد حسین  صاحب مظاہری نے فرمائی، اور حکم کے فرائض قاری مطیع الرحمن قاسمی، مولانا عبد الغفار ندوی، اورمفتی شمشاد احمد اشاعتی نے فرمائی،  اس مقابلے میں پوزیشن لانے والوں کی ترتیب اس طرح رہی:پہلی پوزیشن: محمد سعد انور بن  جناب انوار عالم قاسمی، کسماردوسری پوزیشن: ضیاء الرحمن بن  محمد شاکر، عیدگاہ محلہتیسری پوزیشن: اسد اللہ بن جناب عطاء الرحمن، بشنپور(۲) مقابلۂ خطابت اردو میں کل ۱۰ طلبہ نے حصہ لیا اور مختلف موضوعات پر  بہترین تقریریں پیش کیں اور اپنی شعلہ بیانی و خوش گفتاری سے سامعین کو  مسحور کیا۔ اس پروگرام کی صدارت مولانا منظور احمد شمسی  نے فرمائی، جبکہ حکم کے فرائض قاضی رضوان احمد مظاہری،   حافظ رضوان احمد اشاعتی اور محمد معراج علی ندوی نے نبھائے۔  اس مقابلے میں پوزیشن لانے والے اس طرح رہے:پہلی پوزیشن: خطیب اختر بن ماسٹر اشفاق احمد، مغربی محلہدوسری پوزیشن: عبد القادر بن قاسم انصاری، انصاری محلہتیسری پوزیشن: محمد ندیم بن محمد عمیم ،  عید گاہ محلہ(۳) مقابلۂ خطابت عربی میں کل ۱۷ طلبہ نے حصہ لیا۔ عربی خطابت کا یہ پروگرام بھی پہلی بار میں یکہتہ مین منعقد ہو ا تھا۔  عام سامعین گرچہ عربی زبان سے ناواقف تھے لیکن  مقررین کے انداز بیان     سے خوب لطف اندوز ہوئے۔ اس  پروگرام میں مہمانِ خصوصی کے طور پر جناب مولانا معین احمد ندوی، معتمد تعلیمات  مدرسہ چشمۂ فیض ململ نے شرکت کی اور   طلبہ کے مظاہرے سے بہت متاثر ہوئے۔  پروگرام میں مسندِ صدارت کو قاری مطیع الرحمن  صاحب قاسمی نے زینت  بخشی،  اور حکم کی کرسی ظل الرحمن ندوی، مفتی اکرام ندوی اور عارف نثار ندوی نے سنبھالی۔ اس پروگرام میں درج ذیل طلبہ نے پوزیشن حاصل کی:(۱) حسان عمر بن جناب رضوان احمد صاحب، مغربی محلہ(۲) محمد اکرام بن محمد ہیرا، ہوٹل چوک(۳) وسیم اکرم بن جناب خورشید اکرم، مغربی محلہ، یکہتہاوپر کے تینوں  مقابلے ہماری پہلی نشست ۹  تا ۱:۳۰ میں  انجام پذیر ہوئے۔ اس نشست کے اختتام پر جناب قاری مطیع الرحمن صاحب، مولانا منظور احمد شمسی اور محمد مشتاق علی فہمی اور مہمانِ خصوصی جناب  مولانا معین ندوی صاحب نے اپنے تاثرات کا اظہار فرمایا۔(۴)  ۳:۳۰ بجے سے مقابلۂ خطابت انگریزی شروع ہوا    جو کہ اسکولی بچوں کے لئے خاص تھا۔ اس میں  علاقے کے مختلف انگریزی و ہندی اور ارودو میڈیم اسکولوں  میں زیرِ تعلیم  ۱۶ طلبہ نے حصہ لیا اور گرچہ اپنے علاقے میں انگریزی زبان کی تعلیم پر توجہ ابھی بھی زیادہ نہیں ہے لیکن مساہمین نے بہترین  صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے  جہاں سامعین اور گارجیں حضرات کو متاثر کیا وہیں اس سے انگریزی زبان کے تعلق سے لوگوں میں لچسپی اور  موجودہ زمانے میں اس کی اہمیت کا بھی احساس  جاگا۔  اس پروگرام کی صدارت پروفیسر بدیع الزماں صاحب نے فرمائی اور حکم کے فرائض جناب ماسٹر ارشد صاحب، خرم سجاد اور کامران احمد نے نبھائے۔ اس پروگرام میں کامیاب ہونے والے طلبہ کچھ اس طرح رہے:(۱) ولی اللہ بن جناب عطا ء الرحمن صاحب، بشنپور(۲) سعید انور بن جناب شاہد حسین،  وسط محلہ یکہتہ(۳) شادان احمد بن جناب رضوان احمد، مغربی محلہ، یکہتہ(۵)   ‘مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی: ذمہ دار حکومت یا مسلمان خود’ کے عنوان سےمباحثہ کا پروگرام یکھتہ کی عوام کے لئے اپنی نوعیت کا بالکل منفرد  پروگرام تھا۔ یہ  پروگرام بعد  عصر شروع ہوا اور مغرب کی اذان تک چلا۔ منتظمین و مساہمین تھوڑے تردد اور جھجھک کے شکار  تھے   لیکن الحمد اللہ یہ پروگرام مساہمین و منتظمین کی توقع سے  بہت زیادہ کامیاب، دلچسپ اور سامعین کی توجہ اور لطف کا مرکز رہا، عالم یہ تھا کہ ایک راونڈ مقابلہ ختم ہونے کے بعد ایک ٹیم کے افراد  جوش  و جذبے میں دوسرے راؤنڈ کے لئے بھی تیار تھے لیکن مقابلہ  ایک راؤنڈ پہ ہی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ حکم حضرات کے فیصلے کے مطابق ‘مسلمان خود ذمہ دار’ کو ثابت کرنے والی ٹیم پہلے نمبر پر رہی لیکن بیسٹ پرفارمر کا خطاب محمد دانش کے نام رہا جو کہ دوسرے نمبر پر  رہنے والی ٹیم سے تھے۔  اس مباحثے کی صدارت  ہماری دعوت پرخصوصی طور سے یکہتہ سے تشریف لاکر جناب نیاز احمد صاحب  فرمائی، جبکہ کرسیٔ عدالت جناب مولانا منظور احمد شمسی، محمد مشتاق علی فہمی اور  مولانا منور سلطاں ندوی نے سنبھالی۔ اخیر میں صدر صاحب نے اپنے تاثرات اور اپنی غزل سے نوازا۔  اس پروگرام کی مکمل رکارڈنگ موجود ہے، ان شاء اللہ جلد ہی آپ  تک پہونچے گی۔
(۶) بعد مغرب ہمارا گروپ ڈسکشن شروع ہوا۔ یہ پروگرام بھی  یکتہ کے لئے بالکل نیا، انوکھا اور اس طرح کی پہلی کوشش تھی، اس پروگرام کا مقصد یکہتہ کی تعلیمی صورتحال کو سمجھنا، مسائل کی تشخیص اور حل کی تلاش تھا۔   علاقے کی تعلیمی حالت  کو سدھارنے کی فکر بہت سے لوگ رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں کچھ کرنے کا جذبہ بھی رکھتے ہیں، لیکن یہ فکر انفرادی ہونے کی وجہ سے کسی اقدام کی شکل میں ظاہر نہیں ہوتی، ارادہ یہ تھا ایسے ہی کچھ نوجوانوں کو ساتھ لایا جائے اور ان سے بات کی جائے۔ چونکہ ایسے کسی محدود وقت کے محدود ڈسکشن میں سبھی فکر مند لوگوں کو شامل نہیں کیا جا سکتا، ہمارے اس ڈسکشن  کے  مختصر پینیلسٹ میں  صرف چند ہی   ایسے نوجوان تھے جن  کے بارے میں ہمیں علم تھا کہ وہ بھی ہماری طرح کے فکر رکھتے اور اس موضوع سے انہیں دلچسپی ہے ۔ اس پروگرام کا ایک مقصد یہ بھی تھا اس  پروگرام سے تحریک پاکر ایسے فکر رکھنے والے افراد سامنے آئیں اور اجتماعی طور سے علاقے کی تعلیمی معیار کو سدھارنے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ اس پروگرام کے تئیں منتظمین میں کچھ اندیشے بھی تھے، لیکن بحمد اللہ یہ پروگرام  بغیر کسی  غیر معمولی  و ناخوشگوار  واقعے کے، فکر و خیال کو مہمیز لگاکر کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ اس ڈسکشن   میں بہت سی باتیں آئیں، ان میں  سے کچھ اہم نکات اس طرح تھے:A.   سب سے ضروری چیز بنیادی تعلیم ہے، اس لئے مدرسہ ہو یا اسکول بنیادی تعلیم پر توجہ دینا ضروری ہے اور اس کے لئے یا تو نئے ادارے قائم کئے جائیں یا پھر جو موجودہ ادارے ہیں ان میں بنیادی تعلیم کو بہتر اور معیاری بنایا جائے۔
B.   لڑکیوں کی تعلیم کا مسئلہ بہت اہم ہے، اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے جتنی جلدی ہوسکے اقدام کیا جائے۔
C.   بچوں کی تعلیم کے سلسلے میں بہت سے   گارجین حضرات کا رویہ افسوس ناک ہے۔ وہ بچوں پر پیسے تو خرچ کر رہے ہیں لیکن وہ کیا پڑھ رہے ہیں اس پر توجہ نہیں دیتے۔
D.   پینیلسٹس نے  علاقے کے اس مزاج کی طرف بھی اشارہ کیا لوگ باہر تو خوب خرچ کرتے ہیں لیکن اگر علاقے میں کچھ اس طرح کا  انتظام ہوتا ہے تو اس کے تئیں تساہلی برتتے ہیں اور معمولی فیس بھی ادا کرنے میں  تکلیف محسوس کرتے ہیں۔
بعد عشاء تقسیم انعامات کا  رنگا رنگ پروگرام تھا جس میں سارے مقابلوں میں اول، دوم، سوم پوزیشن لانے والے، مباحثے کی  اول و دوم پوزیشن پر رہنے والی ٹیموں کے سبھی افراد اور مباحثے کے بیسٹ پرفارمر کو انعامات سے نوازنے کے علاوہ سبھی  مقابلوں کے تمام مساہمین کو تشجیعی انعامات سے نوازا گیا۔تقسیمِ انعامات کے بعد جناب مولانا منور سلطان ندوی صاحب نے اپنے جذبات و احساسات کا اظہار فرمایا،  اور پھر اخیر میں محمد علی اختر ندوی نے کلمات تشکر پیش کیا۔
کلمات تشکر

یوں سجا چاند کہ چھلکا ترے انداز کا رنگ
یوں فضا مہکی کہ مہکا مرے ہمراز کا رنگ
حضرات گرامی قدر!اب جبکہ ہمارا یہ کارواں اپنی منزل تک پہونچنے کو ہے، کجاوے اترنے کو ہیں، چاندنی سمٹ رہی ہے، عروس و فکر و فن اپنے حسن دلآرا کی تابشیں بکھیرنے کے بعد کاشانۂ جذب و کیف  سےگیسوئے عنبریں سمیٹنے کو آئی ہے۔۔۔۔۔ضروری ہے کہ ہم خوشبوؤں کی قدر کریں، چاندی کا اعتراف کریں، پھولوں کی ستائش کریں، جگنوؤں کا شکریہ ادا کریں، پروانوں کی وارفتگی کا احسان مانیں۔جی ہاں ! آپ کی موجودگی و شرکت سے ہی یہ چمن مہکا ہے تو آپ کی خوشبوؤں کو سلام!ہمارے معزز مہمانان، ہمارے علمائے کرام  اور اسکالرس، جنہوں نے ہماری درخواست پر مسندِ  صدارت کو زینت بخش کر یا حکم کے فرائض نبھاکر ہماری عزت افزائی فرمائی ، ہمارے حوصلوں کو مہمیز اور عزم  کو آب و تاب دیا، جن کے وجود کی چاندنی سے یہ شبستاں دمکا ہے تو آپ کی چاندنی کو سلام!ہمارے بڑے بھائی اور سینیرس،  خواہ وہ یہاں ہمارے ساتھ ہوں یا باہر ہوں، جن کے مشوروں اور رہنمائی کے پھولوں سے یہ گلستاں سجا ہے، تو ان پھولوں کو سلام! ہمارے رفقاء سفر، برادران عزیز اور دوست و احباب، نئے مستقبل کی کرن، جن کی محنت کے جگنوؤں سے یہ محفل جگمگائی ہے، جن  کی کوششوں سے یہ چمن بار آور ہوا ہے، ان کی کوششوں اور محنتوں کے جگنوؤں کو سلام!اور اس پروگرام کے اصل پروانے، مختلف مقابلوں کے شرکت کار و مساہمیں جن کی وارفتگی نے اس پروگرام کو اڑان بخشی، علم و ادب کے گل پوش اسٹیج پر جن کی حوصلہ مندی اور زور آزمائی، اور جن کی زبان و بیان کی شگفتگی و دلپذیری نے سامعیں کے دلوں میں جگہ بنائی، ان تمام پروانوں کے حوصلوں اور وارفتگی کو سلام!ہم دل سے شکر گذار ہیں ان تمام حضرات کے جن کی کاوشوں سے، محنتوں سے، مشوروں سے، راہنمائیوں سے، دلسوزیوں سے، چاہے وہ سطح پر ہوں اور جس پیمانے کی ہوں یہ پروگرام اپنے اختتام تک بحمد اللہ پہونچا ہے اور یہ کارواں منزل نشیں ہوا ہے۔ خصوصی طور سے، مولانا مفتی نوشاد احمد ندوی، مولانا منور سلطان ندوی، محمد شاکر ندوی، عرفان الحسن صاحب، مولانا امتیاز ندوی، مفتی اکرام ندوی، عارف نثار،  صبا عارف،  خرم سجاد، کامران احمد ،  حافظ رضوان احمد اشاعتی، محمد خطیب،  محمد نقیب، محمد آصف، نواز شاہد،  زیدی، اہل اللہ،  رضا ء الدین،  اسد اللہ، محمد دانش،  ابو اللیث، شفی احمد، سیفی، محمد شاکر (اور میں خود کو کیوں نہ شامل کروں!) مبارکباد اور شکریہ کے مستحق ہیں، اس یقیں کے ساتھ میں اپنی بات ختم کرونگا کہ  یہ خوشبو اسی طرح پھیلتی رہے گی، پھول مہکتے رہیں گے، چاندنی چمکتی رہے گی، جگنو جگمگاتے رہیں گے، اور پروانے نثار ہوتے رہیں گے، اور اسی طرح اور اس سے بہتر پروگراموں کے ساتھ ہم  آپ تک پہونچتے رہیں گے اس جذبے کے ساتھ:
شمیمِ زلف و گلِ تر نہیں تو کچھ بھی نہیں
دماغِ عشق معطر نہیں تو کچھ  بھی نہیں

غم حیات بجا ہے،      مگر غمِ جاناں

غمِ حیات سے بڑھ کر نہیں تو کچھ بھی نہیں
رہِ وفا میں دل و جاں نثار کر جائیں
اگر یہ اپنا مقدر نہیں تو کچھ بھی نہیں



Friday, 6 June 2014

عید کے موقعے سے یکہتہ میں شاندار انعامی مقابلے Prized Competitions in Ekhatha after Eid

مدارس و اسکول کے طلبہ  کے لئے سنہری موقعہ
 اسٹوڈنٹس فار اکیڈمک اکسیلینس (S4X )،  یکہتہ  ومضافات کے زیر اہتمام  عید کے موقعے سے بتاریخ  ۳ ؍ شوال المکرم؁ ۱۴۳۵ہ
 شاندار  انعامی مقابلے
مدارس واسکول کے طلبہ کےہمت وحوصلہ کومہمیزدینے ،ان کی خوابیدہ صلاحیتوں کونکھارنے اورپھران کی صلاحیتوں کے اظہارکے لئے اسٹیج فراہم کی خاطرہم ایک بزم آراستہ کررہے ہیں،اہل ذوق طلبہ کے لئے صلائے عام ہے وہ آگے بڑھیں،اورپروگرام میں حصہ لے کراپنے علمی وثقافتی ذوق کی تازگی وتابندگی کو دوبالاکریں،قصبہ اوراہل خاندان کی نگاہیں اورگراں قدرانعامات آپ کے ہنرکودیکھنے کے لئے بیتاب ہیں!

مسابقہ حفظ حدیث
امام نووی کی مرتب کردہ  کتاب الاربعین سےچالیس  احادیث کا حفظ مع ترجمہ و اسمائے راوی اور مشکل الفاظ کی مختصر تشریح  (الفاظ حدیث، راوی، اور الفاظ  کی  مختصر و آسان تشریح پر مبنی سوالات)


خطابت
آپ کے  اندر پو شیدہ جوہرِ خطابت کو آتشِ اظہار سے جلا بخشنے کے لئے، آپ کی خفتہ تقریر ی صلاحتیوں کی تیغِ جگر دار کو آب دینے کے لئے  اور اپنی فصاحت و بلاغت  اور زبان و بیان کی پر تاثیر طاقتِ پرواز سے بہترین انعامات کا حقدار بننے کےلئے ایک سنہری موقعہ۔
 موضوع: درج ذیل اشعار میں سے کسی ایک شعر پر ۶منٹ کی حد میں۔
فرد  قائم  ربطِ  ملت سے ہے تنہا   کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں
یا
تندئ بادِ مخالف سے نہ گھبرا  اے عقاب
یہ تو  چلتی ہے تجھے  اونچا  اڑانے کے لئے
یا
اس دور میں تعلیم ہے امراضِ ملت کی دوا
ہے خونِ فاسد کے لئے تعلیم مثل نیشتر


مقابلہ عربی تقریر (برائے طلبہ مدارس)
اپنی مادری زبان سے ہٹ کر ایک  اجنبی زبان میں اپنی صلاحیتِ گفتگو اور قوتِ اظہار  کے مظاہرہ  کا انوکھا  اور اس طرح کا پہلا موقعہ۔
 عربی  میں اپنی پسند کے کسی بھی موضوع پر ، ۵منٹ کی  حدود میں۔
فرصة غالية فريدة متاحة للطامحين الذين يرغبون في إبراز متانة لسانهم ونصاعة بيانهم وإثبات كفاءتهم اللغوية في لغة غير لغتهم الأم: في اللغة العربية السمحة على أي موضوع يختارون في حدود خمس دقائق.
مقابلہ انگریزی تقریر  (برائے طلبہ اسکول)
طلبہ اسکول کے لئے  انگریزی زبان میں اپنی صلاحیتوں  کے جوہر دکھانے  اور شاندار انعامات حاصل کرنے کا ایک خوبصورت موقعہ.
 انگریزی  میں اپنی پسند کے کسی بھی موضوع پر ، ۵منٹ کی  حدود میں۔
A golden opportunity for the school background students to express themselves and show their talent in English Language on any topic of own choice within a limit of 5 minutes.


مباحثہ
سرزمین یکہتہ میں پہلی بار     S4X  لیکر آیا  ہے  ایک دلچسپ انعامی مباحثہ  موجودہ وقت کے  ایک اہم اور سلگتے موضوع  پر:
‘مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی: ذمہ دار حکومت  یا   مسلمان خود؟’
اس مباحثے میں دو ٹیمیں حصہ لیں گی  جن میں سے ہر ایک ٹیم کسی ایک پہلو کا دفاع کرے گی اور دلائل سے اپنی بات کو مضبوط کرے گی۔ آپ   کا رجحان موضوع کے جس پہلو پر ہو اس کی مناسبت سے کسی ایک ٹیم میں شریک ہو  سکتے ہیں۔ تو تیار ہو جائیے ایک گرما گرم ، دلچسپ اور شاندار پروگرام کے لئے۔
For the very first time in Ekhatha, S4X is introducing an interesting Debate Program on a very important and burning topic: “Educational Backwardness of Indian Muslims: Who is Responsible? Government or Muslims themselves?
Two teams on either aspect will contest and defend their point of views with   supporting evidences and proofs.
You can participate in any of the two teams.
شرائط :
ü  مدارس و اسکول  (انٹر میڈیٹ) کے وہ تمام طلبہ حصہ لے سکتے ہیں جو ابھی زیر تعلیم ہیں۔
ü  ہر زمرے میں اول،  دوم اور سوم پوزیشن لانے والوں کو انعامات سے نوازا جائے گا۔
ü  حضرات حکم کا فیصلہ آخری اور قطعی ہوگا۔
ü  یہ پروگرام ا نشا ء اللہ مدرسہ رحمانیہ (بنات سیکشن) میں منعقد ہوگا۔
ü  پروگرام میں حصہ لینے کے لئے ۱۵ ؍ رمضان المبارک سے قبل انپے نام کا اندراج درج ذیل رابطہ کاروں کے پاس کرالیں۔

رابطہ کار:
محمد علی اختر:                                                            Mob: 9910380158              
محمدرضاء الدین بن حافظ نصیرالدین         mob:9026161668,9534570732 
محمداہل اللہ بن ماسٹرعطاء الرحمن            mob:9807361831,860467509    
محمدخطیب بن ماسٹراشفاق                         mob:8960323356
حافظ رضوان احمد  امام مسجد پیغمبر پور، یکہتہ،                             Mob: 9570656348

شرکت کے خواہشمند اپنا نام facebook کے  S4X  یا  Ekta Foundation کے صفحے پر بھی درج کراسکتے ہیں۔        https://www.facebook.com/groups/s4xellence/

طلبہ سے سرگرم شرکت
اور
اھل علم و اھل ذوق سے  خاص تعاون کی درخواست ہے!

Tuesday, 22 October 2013

استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء مولانا سلمان نسیم ندوی صاحب کا مدرسہ رحمانیہ یکہتہ میں پر جوش استقبال




استاذ  دارالعلوم ندوۃ  العلماء مولانا سلمان نسیم ندوی صاحب کا مدرسہ رحمانیہ  یکہتہ میں پر جوش استقبال
دار العلوم ندوۃ العلماء کے جواں سال، استاد تفسیر و ادب مولانا سلمان نسیم ندوی صاحب کو مدرسہ رحمانیہ میں ذمہ داران مدرسہ وہ ندوی فارغین و طلبہ کی طرف سے ایک گرم جوش استقبالیہ دیا گیا۔ مولانا موصوف دارالعلوم معینیہ مہراجپور کی دعوت پر اجلاس عام میں شرکت کے لئے آئے تھے جہاں ان کا ایمان کے موضوع پر  پر مغز و مدلل خطاب ہوا۔ جناب قاری مطیع الرحمن صاحب، پرنسپل مدرسہ رحمانیہ نے مولانا موصوف کے سامنے یکہتہ و مدرسہ رحمانیہ کا تعارف پیش کیا، جبکہ  مولانا منور سلطان صاحب ندوی نے مولانا موصوف کا تعارف کرایا  اور  ذمہ دارانِ مدرسہ، اہالیانِ یکہتہ اور ندوی برادران کی طرف سے مولانا کو ان کی آمد پر ہدیہ و تشکر و امتنان پیش کرتے ہوئے کہا کہ یکہتہ سے مولانا موصوف کا غائبانہ تعارف پرانا ہے لیکن  یہ یکہتہ کی خوش نصیبی ہے کہ مولانا موصوف آج بنفس نفیس یہاں تشریف فرما ہیں۔ مولانا موصوف نے اپنے تأثراتی کلمات میں یکہتہ و ململ کی  علمی و تحریکی تاریخ و تہذیب کی قدر افزائی فرماتے ہوئے کہا کہ کسی بھی تحریک و تنظیم کی کامیابی کا راز دلسوزی، ہدف کا تعین اور اس پر یقین، خلوص اور صرف اللہ سے اجر کی امید میں پنہاں ہے۔  محمد علی اختر ندوی نے استقبالیہ نشست کی نظامت کرتے ہوئے مولانا موصوف کے ساتھ ساتھ مولانا منور سلطان ندوی کا  بھی شکریہ ادا کیا جن کی کوشش اور اصرر پر آج یکہتہ کو یہ خوش نصیبی حاصل ہوئی۔ اس نشست میں جناب محمد مطیع الرحمن صاحب، سکریٹری،   قاری مطیع الرحمن صاحب پرنسپل، مولانا امتیاز علی ندوی،   ظل الرحمن ندوی ،قاری وصی اور  مدرسہ کے دوسرے اسٹاف کے ساتھ ساتھ ندوی فارغین و طلبہ میں رضاء الدین،  وسیم اکرم،  محمد اسامہ، شمیم احمد، حسان احمد، نقیب احمد،  وغیرہم  موجود تھے۔

Sunday, 20 October 2013

2nd Successful Quiz Competition by S4X at Ekhatha



























After a gap of one year, Ekhatha witnessed another magnificent successful quiz competition organized under the banner of S4X. This time, the quiz was decided to be exclusively based on Islamic GK to educate school background students as well as the general people on the basic Islamic knowledge related to our religion, belief, Prophet, Quran, prayers, Islamic civilization, etc. The quiz was divided into two groups to facilitate participation of the students from both the madrasa and school backgrounds.
For the first group, in which only the students from school background or from Hifz class were allowed to participate, the questions were kept easy considering the level of knowledge of the participants of this group. We tried to ask them only those questions which included the knowledge every Muslim must know about his / her belief, Qurarn, Prophet and prayers.
For the second group in which students from madrasas participated, questions ranged from medium to difficult and included knowledge of Quran, Hadith, Aqaed, Ebadat and Maamlat in addition to Seerat-e-Rasool. Seerat-e-Sahaba, and Islamic civilization.
Out of 42 students enrolled for the first group, a total of 35 students took part in the competition which lasted for three consecutive rounds going from easy to some difficult level. In the first round, four questions were asked of each student; and 21 students who got all the 4 questions or three questions right, were declared to qualify for the next round which also consisted of four questions. Six participants advanced to the next level which lasted for another  three questions and finally the judges Maulana Imteyaz Ali Nadwi and Mufti Ekram Ahmad Nadwi declared the top five as follow:

  1. Mohammad Nadeem  s/o Shameem Ahmad (South Mohalla)
  2. Abul Hasan s/o Nehal Ahsan (West Mohalla)
  3. Ali Ahmad s/o Meraj Ahmad (South Mohalla)
  4. Ashhad Hasan s/o Mohammad Hasan (Tufanpur)
  5. Aamir Nazir s/o Nazir Ahmad (Near Jama Masjid)


The second round, in which 18 participants took part, lasted for two rounds. From the first round which consisted of 5 questions, 9 participants advanced to the second and final level which included 8 questions asked of each participant. Finally, the Judges, again Maulana Imteyaz Ali Nadwi, and Maulana Abdul Gaffar Nadwi unanimously decided the top five contestants whose names are as follow:

  1. Ahlullah s/o Ataurrahman (Karbala Mohalla)
  2. Asadullah s/o Ataurrahman (Karbala Mohalla)
  3. Sharfe Alam s/o Badre Alam (West Mohalla)
  4. Azeemushshan s/o Mohammad Heera, (Middle Mohalla)
  5. Wasem Akram s/o Khursheed Akram (West Mohalla)

Apart from the top five contestants from each group who were presented with the exquisite prizes by Md. Motiurrahman Sb, Secretary, Madrasa Rahmania and Qari Maulana Motiturrahman SB, Principal, Madrasa Rahmania, all the other participants were gifted with one pen each as an encouragement.
We congratulate all the winners as well as all the participants who dared to take part in the event. They are all winners. May Allah bless them with long, healthy and successful life and bright future.  Ameen
The competition received enthusiastic participation by the audience as the Madrasa Hall adjacent to the Jama Masjis where the event took place was overcrowded with students and general public. The stage was graced with the presence of some of the dignitaries of Ekhatha, including Maulana Md. Mumtaz Ali who chaired the competition, Razeeq Ahmad, Mukhya of Ekhatha, Maulana Aslam Qasmi, Shabbir Zakhmi and other notable public figures.
The torch-bearer inspiring Maulana Monawwer Sultan Nadwi also honored the occasion not only with his presence but also with his advices.
 In the prize distribution ceremony which was held after Isha, Md. Motiurrrahman sb, Secretary, and Maulana Motiurrahman sb, Principal, Madrasa Rahmania, Maulana Imteyaz Ali Nadwi and Maulana Monawwer Sultan Nadwi addressed the audience and expressed their impressions and feedback. Maulana Monawwar Sultan Nadwi who has himself walked through the prickly streets of organizing any such events in Ekhatha, brought out the problems and difficulties hindering such events; drew the attention of dignitaries gracing the stage to these hurdles and urged them to take the responsibility of providing necessities required for the successful and continuous organization of  such programs. He specially emphasized on the provision of a projector which would help to organize quiz programs in the more advanced and visually appealing manner. Both the Secretary and Principal of Madrasa Rahmania appreciated the event and promised to provide the projector and other requirements for the programs to be held in future. We appreciate them for their promise and hope this will be fulfilled.
We thank all our audience, friends and guests who honored the occasion and contributed to lead the event to success.
I personally have to thank Maulana Monawwar Sultan Nadwi, Maulana Rizwan Ahmad Eshaati and Saba Arif who pushed hard and insisted to think about organizing the competition.
The quiz could not have been possible without the collective efforts and cooperation of our promising youth and enthusiastic friends especially Maulana Rizwan Ahmad Eshaati, Daanish Ahmad, Shahe Alam, Fazlurrarhman, Md. Arif, Rezauudin, Zeyauddin, Md. Waseem, Abullais who created the beautiful banner and a logo for S4X, Md. Sharique, Nawaz Shahid and other youngsters and friends, in addition to the advices put forth; and efforts put in by our seniors and mentors, especially Maulana Monawwar Sultan Nadwi, Maulana Imteyaz Ali Nadwi, Nehal Ahsan , Md. Tarique Gulab, etc.
I, on behalf of S4X, appreciate their effort and thank them all from the bottom of my heart, and congratulate them for the fruitful organization of the event.
We are also obliged to all the people who extended financial support to us and contributed to the program.
We would like to extend our heartiest thanks to our online brothers and well wishers who always have words of encouragement and inspiration for us, especially, Mr.  Khurram Sajjad, Mr. Anwar Sajjad, Irfanul Hasan, Kamran Ahmad, etc.
We would also like to thank Anwar Alam Nadwi whom I met for the first time in Ekhatha, and who had a lot of words of praise and appreciation for the works we are doing.
We would wait for your comments and feedback. Please don’t hesitate to point out our deficiencies and ways to improve. We would appreciate your ideas and thoughts.

Congratulations and Thanks to all.
S4X



2nd Successful Quiz Competition by S4X at Ekhatha